Hindi Kahani,Horror Kahani,Thiriller Stories in Hindi

Hindi Kahani,Horror Kahani,Thiriller Stories,Hindi Poems,Kids kahani,Novels on Hindikahanimein.

Sunday, March 22, 2020

بڑھیا کا انتقام-دوسرا اور آخری حصہ Bherdye Ka Intekam Dosa hissa

بڑھیا کا انتقام

دوسرا اور آخری حصہ

ایک رات جب کتیا اسی طرح اپنے آقا کی یاد میں رو رہی تھی۔ بڑھیا کے ذہن میں انتقام لینے کی ایک انوکھی تدبیر آئی۔ نہایت کارگر اور نہایت وحشیانہ تدبیر.... وہ ساری رات اسی تدبیر کے مختلف پہلووں پر سوچ بچار کرتی رہی اور اسے یقین ہو گیا کہ اگر اس پر عمل کیا جائے تو وہ قاتل سے خاطر خواہ بدلہ لے سکتی ہے۔ صبح ہوتے ہی وہ مکان سے باہر نکلی اورگرجے میں جا کر قربان گاہ کے سامنے سجدے میں گر پڑی اور خدا سے رو رو کر اپنی کامیابی کی دعائیں مانگنے لگی۔ گرجے سے واپس آ کر اس نے کتیا کوصحن میں باندھ دیا اور اپنی کوٹھری میں چلی گئی ۔ اسی کی نگاہیں سارڈینیا کے ساحل پر گڑی ہوئی تھیں۔
اس روز کتیا سارا دن اور ساری رات بھوکی پیاسی صحن میں بندھی رہی۔ پہلے تو وہ کافی دیر تک چپ چاپ پڑی رہی، لیکن جب اسے بھوک ستانے لگی تو اس نے بھونک بھونک کر سارا مکان سر پر اٹھالیا۔ مگر بڑھیا سیورنی اپنے کوٹھڑی سے باہر نہ نکلی اور نہ ہی اس نے کتیا کو کچھ کھلایا پلایا۔ اس سے اگلے روز صبح وہ کوٹھڑی سے برآمد ہوئی، اس کے ہاتھ میں پانی سے بھرا ہوا ایک پیالہ تھا وہ اس نے کتیا کے سامنے رکھ دیا ۔ کتیا نے پانی پیا اور محبت سے دم ہلائی اور اب وہ روٹی یا گوشت کے چند لوتھڑوں کی منتظرتھی ۔ مگر بڑھیا نے سارا دن کھانے کے لئے اسے کچھ نہ دیا۔
اب کتیا بھوک سے اس قدر نڈھال ہو چکی تھی کہ اس میں بھونکنے کی سکت بھی باقی نہ رہی۔ وہ آنکھیں بند کئے پڑ ی رہی رات کے وقت جب اسے پھر بھوک نے ستایا تو وہ بھونکی اور زنجیر توڑنے کی کوشش کرنے لگی لیکن زنجیر مضبوط تھی ٹوٹ نہ سکی ۔
بڑھیا کا انتقام دوسرے روز بھی بڑھیا نے کتیا کو پانی ہی پلایا اور کھانے کے لئے کچھ نہ دیا۔ اس نے کتیا کے چہرے پر مایوسی اور حیرت کے ملے جلے تاثرات پہچان لئے۔ اپنی مالکہ کو دیکھتے ہی وہ زور زور سے اچھلنے اور زنجیر سے آزاد ہونے کی سعی کرنے لگی لیکن اسے کھانے کو پھر بھی کچھ نہ ملا اور وہ سارا دن بھوکی ہی رہی.تیسرے روز بڑھیا سیورنی اپنے ایک پڑوسی کے گھر گئی اور وہاں سے دو گٹھڑیاں خشک گھاس اور بھس کی اٹھا لائی۔ پھر اس نے لکڑی کا ایک پرانا صندوق کھولا اور اس میں سے اپنے مرحوم شوہر کے کپڑے نکالے ... اور ان کپڑوں میں بھس بھر دیا ۔ اس کے بعد بڑھیا نے بھس بھرے ہوئے کپڑوں کے اس انسانی ڈھانچے کو صحن میں ایک اونچی سی لکڑی گاڑھ کر اس کے ساتھ کھڑا کر دیا۔
پھر پرانی لیلن کو لپیٹ کر اس ڈھانچے کا سر بنایا اور اس میں بھس بھر کے ڈھانچے کی گردن مکمل کر دی۔
کتیا حیرت سے یہ سب تماشا دیکھ رہی تھی ۔ اس کی سمجھ میں نہ آتا تھا که مالکہ کو کیا ہوگیا ہے، اس سے پہلے تو اس نے کبھی اسے بھوکا نہیں رکھا تھا۔ اس کام سے فارغ ہوکر بڑھیا بازار گئی، قصاب کی دکان سے اس نے کلیجی خریدی اور گھر آ گئی۔ پھر صحن میں ہی اس نے بھوکی کتیا کے سامنے آگ جلائی اور کلیجی بھوننے لگی ۔ کلیجی کی خوشبو جب کتیا کی ناک تک پہنچی تو اس کی بے قراری اور بے چینی کی حد نہ رہی۔ اس کا منہ کھلا ہوا اور آنکھیں گوشت پر لگی ہوئی تھیں۔ پھر بڑھیا نے کلیجی کو ایک ڈوری میں پرویا اور بھس بھرے ہوئے ڈھانچے کی گردن پر لپیٹ دیا ۔
اس کے بعد وہ کتیا کی طرف گئی اور اس کی گردن سے زنجیر اتاردی۔
بجلی کی مانند بھوکی شکاری کتیا اس ڈھانچے کی طرف جھپٹی اور اپنے نوکیلے پنجوں سے اس کی گردن پر وار کیا اور پھر اپنے دونوں پنجے اس کے کندھوں پر گاڑ کر دانتوں سے کلیجی کی بوٹیاں نوچنے لگی۔ لیکن اس کا منہ وہاں تک بمشکل پہنچ پایا ۔ وہ پیٹھ کے بل زمین پرگری لیکن پھر اٹھی اور ڈھانچے پر جھپٹی ۔ کتیا کے غیظ وغضب کی انتہا نہ تھی ۔ چند ہی لمحوں میں اس نے ڈھانچے کی گردن، شانے، بازو اور سینہ سب نوچ ڈالے اور کلیجی کا ایک ایک ٹکڑا ہڑپ کر گئی ۔ بڑھیا سیورنی
صحن کے ایک گوشے میں کھڑی اطمینان سے یہ دلچسپ تماشا دیکھتی رہی ۔ پھر اس کی آنکھوں میں چمک اور لبوں پر تبسم کی خفیف سی لہر نمودار ہوئی۔ کتیا کلیجی کھا کر اور ڈھانچے کو تہس نہس کر کے جب فارغ ہوئی تو بڑھیا نے اسے زنجیر سے باندھ دیا۔
اس کے بعد دو روز تک کتیا کو پھر فاقے سے رکھا گیا ۔ اس دوران میں بڑھیا نے بھس کا انسانی ڈھانچہ تیار کیا اور کلیجی اس کی گردن سے باندھ کر کتیا کو چھوڑ دیا۔
اس مرتبہ کتیا نے پہلے سے بھی زیادہ خونخواری اور جوش و خروش کا مظاہرہ کیا اور آناً فاناً اپنے نوکیلے پنجوں اور لمبے لمبے دانتوں سے اس کے چیتھڑے اڑا دیئے۔ تین ماہ تک بڑھیا نے ہر تیسرے روز یہی عجیب تماشا اپنے گھر میں کیا اور کتیا کو اس حد تک سدھایا کہ وہ اب محض اشارے پر ہی اس ڈھانچے کی طرف جھپٹتی اور اس کی تکا بوٹی کر ڈالتی۔
اسے اب زنجیر سے باندھے رکھنے کی ضرورت بھی نہ رہی تھی ۔ اب ایسا ہونے لگا کہ کتیا اس کام
سے فارغ ہوتی تو کلیجی اسے بعد میں انعام کے طور پر کھلائی جاتی تھی ۔ ڈھانچہ جب دوبارہ بنایا جاتا تو کتیا ایک گوشے میں بیٹھی اسے وحشیانہ انداز میں تکتی رہتی اور جونہی بڑھیا کی انگلی کا اشارہ ملتا، وہ اپنی جگہ سے ا چھاتی اور ڈھانچے پر پل پڑتی۔
جب بڑھیا کو کتیا پر پورا اعتماد ہو گیا تو ایک روز صبح سویرے اس نے پرانے صندوق میں سے اپنے مرحوم شوہر کے کپڑوں کا ایک اور جوڑا نکالا اور اسے خود پہن لیا کلیجی لے کر ایک تھیلے میں رکھی اور پھر کتیا کو ساتھ لے کر ساحل سمندر کی طرف چل پڑی....
اس کی چال ڈھال اور آواز سے یہی معلوم ہوتا تھا کہ کوئی بوڑھا آدمی ہے۔ اس نے ایک ماہی گیر سے کہا کہ اسے لونگو سارڈو پہنچائے۔ کتیا کو اس نے اس مرتبہ دو دن کے فاقے سے رکھا۔ کشتی میں بیٹھنے
کے بعد اس نے تھیلے کا منہ ذرا سا کھولا۔ کلیجی کی خوشبو جب کتیا کی ناک میں گئی تو وہ اچھلنے اور اسے جھپٹنے کی کوشش کرنے لگی ۔ بڑھیا نے اس کی گردن پر تھپکی دی اور آہستہ سے کہا۔
نہیں........... ابھی اس کا وقت نہیں آیا ....... ذرا اور صبر کرو..............
لونگو سارڈو پہنچ کر وہ ایک شراب خانے میں گئی، وہاں اس نے نکولس کے بارے میں پوچھا کہ کہاں ملے گا۔ کسی نے بتایا کہ نکولس بڑھئی اپنی دوکان میں کام کر رہا ہے۔ بڑھیا اس دوکان کا پتہ دریافت کر کے وہاں آسانی سے پہنچ گئی۔ اس نے آہستہ سے دوکان کا دروازہ کھولا ۔ دوکان کے پچھلے حصے میں کوئی شخص ہتھوڑے سے لکڑی پر کیلیں ٹھونک رہا تھا
۔ بڑھیا بلند آواز سے بولی ۔بڑھیا کا انتقام
نکولس کیا تم یہاں موجود ہو؟...............
دوسرے ہی لمحے ایک لمبا تڑنگا ادھیڑ عمر کا آدمی اس کے سامنے کھڑا تھا۔
ہاں! میرا ہی نام نکولس ہے، کہو کیا کام ہے۔
یہ سنتے ہی بڑھیا نے کتیا کی گردن سے زنجیر کھولی اور چلا کر کہنے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔ پکڑ لو اسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پکڑ لو اسے۔۔۔۔۔۔

شکاری کتیا جو پہلے ہی سے اس فن میں طاق ہو چکی تھی ۔ ایک بلا کی مانند نکولس کی طرف جھپٹی اور اس کے گلے پر اپنا زبردست پنجہ مارا۔ نکولس بد حواس ہو کر پیچھے گرا۔
اسی اثناء میں کتیا نے اس کے منہ پر پنجے مارے
اور اپنے لمبے دانت اس کے گلے میں گاڑ دیئے ۔ نکولس کے منہ سے چیخ بھی نہ نکل سکی۔
چند منٹ تک وہ کتیا کے پنجے سے آزاد ہونے کی کوشش کرتا رہا، لیکن بے سود، کتیا نے اس وقت تک اسے نہ چھوڑا، جب تک اس کا دم نہ نکل گیا۔
دوکان کے سامنے مکان کے باہر دو پڑوسی سڑک پر بیٹھے باتیں کر رہے تھے ۔ انہوں نے بعد میں ذکر کیا کہ نکولس کی دوکان میں ایک بوڑھے کو سیاہ رنگ کی کتیا کے ساتھ جاتے دیکھا گیا اور جب وہ دکان سے باہر نکلے تو بوڑھے نے تھیلے میں ہاتھ ڈال کر کوئی سیاہ سی چیز کتیا کو کھلائی تھی۔
تین ماہ بعد وہ پہلی رات تھی جب بوڑھی سیورنی گھر میں پیر پھیلا کر آرام سے میٹھی نیند سو ئی۔
(ختم شد)

No comments:

Post a Comment