Hindi Kahani,Horror Kahani,Thiriller Stories in Hindi

Hindi Kahani,Horror Kahani,Thiriller Stories,Hindi Poems,Kids kahani,Novels on Hindikahanimein.

Sunday, March 22, 2020

بڑھیا کا انتقام پہلا حصہ Bherdye Ka Intekam Pehla Hissa

بڑھیا کا انتقام

پہلا حصہ

قصبه بوبی فیسیو کے آخری کنارے پر الگ تھلگ ایک عمر رسیدہ بیوہ عورت اپنے نوجوان لڑکے کے ساتھ رہا کرتی تھی ۔ ان کا چھوٹا سا ٹوٹا پھوٹا مکان پہاڑی کے ساتھ ہی بنا ہوا تھا، جس میں آرام و آسائش کی کوئی چیز نہیں تھی۔
یہاں شب وروز بحری ہوائیں چلتی رہتی تھیں ۔ بوبی فیسیو کے ماہی گیر انہی طوفانوں میں اپنی کشتیاں لے کر سمندر میں مچھلیاں پکڑنے جاتے تھے۔ دور سمندری چٹانوں کے پیچھے ایک دھبے کی مانند جزیرہ سارڈینیا دکھائی دیتا تھا ۔
بڑھیا سیورنی کا مکان چونکہ ایک بلند پہاڑی ٹیلے پر تھا ۔ اس لئے وہاں سے سارڈینیا کی خوبصورت برفانی پہاڑیاں اور ان پر بنے ہوئے اکا دکا مکانات صاف نظر آتے تھے۔
اور بعض اوقات تو یوں محسوس ہوتا، جیسے یہ مکان پرندوں کے چھوٹے چھوٹے گھونسلے ہیں۔ بڑھیا سیورنی کے مکان کی تین کھڑکیاں سارڈینیا کی طرف کھلتی تھیں اور کبھی کبھار وہ وہاں بیٹھی اس جزیرے کی طرف خواب آلودہ نگاہوں سے دیکھتی رہتی تھی۔ جہاں آسمان اور سمندر ایک دوسرے سے گلے ملتے ہوئے نظر آتے تھے۔
اس کے بیٹے کا نام انتونی تھا۔ وہ نہایت صحت مند اور خوبصورت جوان تھا۔ دونوں ماں بیٹے ایک دوسرے کو دیکھ کر جیتے تھے ۔ اس مختر سے گھر میں ان کے علاوہ ایک تیسرا فرد اور بھی تھا اور وہ ان کی پالتو کتی تھی ۔ جس کا قد لمبا جسم دبلا پتلا اور پنجے کافی تیز اور نوکیلے تھے ۔ وہ شکاری کتی تھی اور بھی کبھار نوجوان انتونی کے ساتھ شکار کی مہم میں جایا کرتی تھی۔
ایک اداس شام کا ذکر ہے ، نوجوان انتونی کسی بات پر ایک شخص نکولس سے جھگڑا ہو گیا۔
نکولس قصبہ بوبی فیسیو کا بدمعاش تھا۔ اس نے مشتعل ہو کر لمبا چاقو نکالا اور انتونی کے سینے میں گھونپ دیا اور پھر لڑکے کی تڑپتی ہوئی لاش کو وہیں چھوڑ کر اسی رات سارڈینیا کی طرف بھاگ گیا ۔ انتوئی کی لاش رات بھر اسی پہاڑی درے میں پڑی رہی.... وہاں شاذ و نادر ہی کسی کا گزر ہوتا تھا۔
اتفاقا چند ماہی گیر ادھر سے گزرے اور انہوں نے پہچان لیا کہ لاش بڑھيا سیورنی کے بیٹے انتونی کی ہے۔ وہ لاش کو بڑھیا کے مکان پر لے آئے ۔ بڑھيا نے اپنے بیٹے کی لاش دیکھی اور دیکھتی ہی رہی ........... نہ اس کا جسم کانپا ، نہ اس نے چیخ ماری اور نہ اس کی آنکھوں سے آنسووں کی برکھا ہو ئی ........... وہ بس چپ چاپ ، خاموش ، پھٹی پھٹی نظروں سے اپنے پیارے بیٹے کی لاش دیکھتی رہی پھر اس نے اپنا جھریوں والا ہاتھ آگے بڑھا کر اپنے بیٹے کے سینے پر رکھا اورقسم کھائی کہ وہ اس خون کا انتقام لے گی۔
اس نے ماہی گیروں اور دوسرے لوگوں کو، جو اس سے ہمدردی کرنے آئے تھے، بڑھیا کا انتقام اپنے مکان سے چلے جانے کا اشارہ کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاؤ تم سب یہاں سے۔
مجھے تمہاری مدد کی ضرورت نہیں تم میرا بیٹا مجھے واپس نہیں دے سکتے . اس لئے جاؤ .......... مجھے اکیلا چھوڑ دو.... میں اپنے بیٹے سے کچھ باتیں کرنا چاہتی ہوں ............
کسی نے کچھ نہ کہا۔ لوگ سمجھے کہ بڑھیا سیورنی کا دماغ چل گیا ہے۔ ان سب کی آنکھوں میں آنسو تھے اور چہرے سوگوار..... جب سب چلے گئے تو بڑھیا نے مکان کا دروازہ بند کیا اورانتوئی کی لاش کے قریب بیٹھ گئی اور دھاڑیں مار مار کر رونے لگی۔ کتیا اپنے مرے ہوئے آقا کے سرہانے بیٹھی
تھی اس کا جسم بے حس و حرکت تھا۔ اس نے کئی مرتبہ محبت سے انتونی کے سر پر اپنا پنجہ رکھا۔ وہ سمجھ رہی تھی کہ شاید اس کا آقا سو رہا ہے۔ لیکن وہ اس سے پہلے تو کبھی اس وقت نہیں سویا ... اس نے منہ اٹھا کر بڑھیا سیورنی کی
طرف دیکھا، جس کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا. کتیا کو احساس ہوا کہ اس کا آقا مر چکا ہے۔ اس کے حلق سے ایک لمبی اور دلدوز آواز نکلی جس سے سارا مکان گونج اٹھا اور بڑھیا کو یوں معلوم ہوا جیسے انتونی کی موت پر مکان کے در و دیوار بھی رو رہے ہیں۔ کتیا کی رونے کی آواز مکان کے باہر کھڑی ہوئی چند عورتوں نے بھی سنی اور وہ سسکیاں بھرتی ہوئی وہاں سے چلی گئیں۔
بے چاره انتونی........... اس کی عمر ہی کیا تھی ............ زندگی کی صرف بیس بہاریں ہی اس نے دیکھیں اور موت کے بے رحم ہاتھوں نے اسے دبوچ لیا۔
انتونی کی لاش بستر پر پڑی تھی۔ اس کا بھورے رنگ کا پرانا کوٹ جگہ جگہ سے پھٹا ہوا تھا۔ سر کے بال نچے ہوئے تھے ۔ اس کا سارا جسم ، سینہ گردن ، بازو اور ٹانگیں جمے ہوئے خون سے لتھڑی ہوئی تھیں۔ لیکن اسے دیکھ کر کوئی یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ مر چکا ہے ، بس معلوم ہوتا تھا کہ وہ آنکھیں بند کئے آرام کی نیند سو رہا ہے۔
روتے روتے یکا یک بڑھیا چپ ہو گئی ۔ اس کی آنکھیں اپنے بیٹے کے چہرے پر گری ہوئی تھیں اور لب کپکپا رہے تھے ۔ شاید وہ کچھ چاہتی تھی اور پھر اس کی زبان سے چند جملے ادا ہوئے۔ کتیا نے جونہی مالکہ کی آواز سنی وہ بھی خاموش ہو کر اس کا منہ تکنے لگی، جیسے سمجھنا چاہتی ہو کہ ما لکہ کیا کہہ رہی ہے۔
آہ! میرے پیارے بیٹے، تم سو رہے ہو............ سوجاو، خوب آرام سے سو جاؤ، کیا تم میری آواز سن رہے ہو؟ میں تمہاری ماں بول رہی ہوں بیٹے، تمہاری ماں جس سے تمہیں بڑا پیار تھا اور جس کا حکم تم نے کبھی نہیں ٹالا۔ میں وہی تمہاری ماں ہوں............ اور تمہارے سامنے عہد کرتی ہوں کہ تمہارے خون کا بدلہ ضرور لوں گی۔ اب تم اطمینان سے سو جاؤ۔
یہ کہہ کر وہ انتونی کی لاش پر جھکی اور اپنے سرد اور کانپتے ہوئے ہونٹوں سے اس کی خون آلود پیشانی چوم لی۔ بڑھیا جونہی چپ ہوئی کتیا کے حلق سے رونے کی مہیب آواز نکلی پر اس نے اپنا منہ زمین میں چھپا لیا اور چپ ہوگئی ۔ اور اس طرح وہ رات بوڑھی سیورنی اور کتیا سیمی لینتی نے انتونی کے قریب بیٹھ کر روتے دھوتے گزاردی۔
دوسرے روز انتونی کو قصبہ بوبی فیسیو کی چھوٹے سے گرجے کے قبرستان میں دفن کر دیا گیا۔ چند روز تک نوجوان کی دردناک موت کا چرچا لوگوں میں ہوا اور پھر سب بھول بھال گئے سوائے اس کی ماں اور اس کی کتیا کے جو اس کی موت کے غم کو سینے سے لگائے ہوئے تھے ۔
بڑھیا کے شب و روز اسی فکر میں گزرنے لگے کہ انتقام لینے کی صورت کیا ہو...........اسے اتنا پتہ چل چکا تھا کہ جس شخص نے اس کے بیٹے کو مارا ہے وہ سارڈینیا کے ایک گاؤں لونگو سارڈو میں چھپا ہوا ہے۔ یہ گاؤں بدمعاشوں اور غنڈوں کو پناہ دینے کے لئے بڑا مشہور تھا اور اکثر جرائم پیشہ لوگ انصاف کے ہاتھ سے بچنے کے لئے لونگو سارڈو میں پناہ لیا کرتے تھے۔
بڑھیا سیورنی نہ کسی سے بات کرتی اور نہ کہیں آتی جاتی، بلکہ مکان کی کھلی کھڑکیوں میں سے ایک میں بیٹھ کر سارا سارا دن لونگو سارڈو کی جانب گھورا کرتی جہاں اس کے بیٹے کا قاتل چھپا ہوا تھا۔
غصے سے اس کے بدن کا رواں رواں کانپنے لگتا اور آنکھیں اشک بار ہو جاتیں ۔ اس کی سمجھ میں بدلہ لینے کی کوئی تدبیر نہ آتی تھی۔ وہ ضعیف و ناتواں عورت تھی ۔ اس کا کوئی مددگار نہ تھا ۔ وہ کسی سے صلاح مشورہ بھی نہیں لے سکتی تھی۔ اسے تو اتنا بڑا کام تن تنہا پایہ تکمیل تک پہنچانا تھا ۔ وہ اپنے بیٹے سے وعدہ کر چکی تھی۔ اس کی لاش کے آگے سینے پر ہاتھ رکھ کر انتقام لینے کی قسم کھائی تھی اسے اب تاخیر نہیں کرنی چاہیے کیا معلوم موت کا ظالم ہاتھ کب اسے بھی پکڑ لے اور اپنے ساتھ لے جائے۔ پھر وہ اپنا قول کیونکر پورا کرے گی؟۔
اسی فکر میں اسے نیند نہ آتی تھی۔ وہ ساری رات اپنی چھوٹی سی کوٹھڑی میں ٹہلا کرتی یا تھک کر کھڑکی کے پاس بیٹھ جاتی۔ اسے کسی پل چین نہ آتا تھا۔ کتیا سائے کی مانند اپنی مالکن کے ساتھ ساتھ رہتی ، اب اس میں بھی وہ پہلی سی شوخی اور چلبلا پن نہ رہا تھا۔ وہ شاذو نادر ہی بھونکتی ، بس اپنی مالکہ کے پیروں تلے پڑی سویا کرتی یا دل چاہتا تو اونچی آواز میں دو تین مرتبہ رونے کی آواز نکالتی اور چپ ہو جاتی۔ شاید وہ اپنے آقا کو ڈھونڈتی اور پکارتی تھی۔
(جاری ہے)

No comments:

Post a Comment